Moashrah معاشرہ

کیا یہ عشقِ رسول ہے؟

Posted in میرا پیغمبر عظیم تر ہے by Rumi on January 9, 2011

اللہ انہیں رحمة للمسلمین کہہ سکتا تھا، رحمة للمومنین کہہ سکتا تھا، لیکن اس نے محمد کو رحمة للعالمين کہا

اور ہم نے تو تمہیں تمام جہان کے لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے (قرآن)

وہ انسانوں کو بچانے آئے تھے، ان کی زندگیاں سنوارنے آئے تھے، انہیں اللہ کے قریب کرنے آئے تھے، وہ لوگوں کو تباہ کرنے کے لیے تو نہیں آئے تھے، وہ لوگوں کے لیے موت کا پیغام بن کر تو نہیں آئے تھے، وہ لوگوں کے گھر برباد کرنے کے لیے تو نہیں آئے تھے۔ کیا ایسی ہستی کو تمام جہانوں کے لیے رحمت کہا جائے گا کہ جس کے نام پر انسان سے زندگی چھین لی جائے؟

اللہ انسان کو موقع دیتا ہے، اسے وقت دیتا ہے۔ اللہ ایک لحظہ میں تمام کافروں کو نیست و نابود کر سکتا ہے، لیکن اللہ لوگوں کو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں۔ کیا تم میرے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو بزدل سمجھتے ہو؟ کیا وہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام مشرکین کو ختم نہیں کر سکتے تھے؟ کیا وہ ڈرتے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ انہوں نے 23 سال انتظار کیا، لوگوں کو مہلت دی۔ مدینہ میں جا کر بھی انہوں نے کسی پر حملہ نہیں کیا۔ جب کفار خود ہتھیار اٹھا کر آ گئے تو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دفاع کیا۔ کفار سے پہلی جنگ غزوہ بدر میں اپنے سارے بدلے اتار سکتے تھے، لیکن انہوں نے گرفتار ہونے والوں کو قتل نہیں کیا، انہیں مہلت دی اور وقت دیا کہ وہ مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ رہیں اور اسلام کو اللہ کے پیغام کو سمجھیں۔

تمہیں برا لگتا ہے؟ مجھے تم سے کہیں زیادہ تکلیف، دکھ اور درد ہوتا ہے جب تم میرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پوری دنیا میں بدنام کرتے ہو، ان کے نام پر گھناؤنے جرم کر کے انہیں رسوا کرنے کی کوششیں کرتے ہو۔ کیا سوچتا ہوگا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ناواقف وہ شخص جب دیکھتا ہوگا کہ ایک شخص کے نام پر انسان قتل کیے جا رہے ہیں؟ کیا احساسات ہوں گے ان لوگوں کے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام پر بہنے والے خون کو دیکھتے ہوں گے؟ تم اپنے منہ سے اسے سلامتی والا دین کہتے ہو اور اپنے ہاتھوں سے اس کی دھجیاں بکھیرتے ہو؟

میرا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ نور تھا جو ظلمت کے اندھیروں میں چمکا، میرا رسول وہ عظمتِ بشر تھا جس نے انسان کو دکھایا کہ انسان کیا ہوتا ہے۔ میرا رسول اس دنیا میں اس لیے آیا تاکہ انسان کو بتائے کہ محبت کیا ہوتی ہے۔ تم میرے نبی کے عاشق نہیں منافق ہو، تم میرے پیغمبر کے دشمن ہو۔ میرے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو کبھی کسی انسان کو زبانی بات پر قتل نہیں کیا، میرے نبی نے تو کبھی اپنے نام پر خون بہانے کا حکم نہیں دیا۔ میرے رحمت اللعالمین انسانوں کو امن، سکون اور محبت دینے آئے تھے، لاشیں گرانے نہیں۔

عدالت کا فیصلہ نہ مانو تو توہینِ عدالت کا مقدمہ چل جاتا ہے، اگر رسول کے احکام نہ مانو تو توہینِ رسالت نہیں ہوتی؟ تم جہالت کی گٹھری سر پر اٹھائے، ہاتھوں میں فساد کے خون آشام ہتھیار سنبھالے رسول کی توہین ختم کرنے نکلے ہو؟ اپنے گریبان میں جھانکو اور دیکھو کہ صبح سے شام تک کیا کرتوت کرتے ہو، رات کی تاریکی و تنہائی میں کیا حرکات کرتے ہو۔ تم اپنے آپ کو محمد کا امتی کہتے ہو، کیا محمد نے تمہیں یہ کام کرنے کو کہا تھا؟ فیس بُک بند کروانے والے پاکستان میں پورنوگرافک ویب سائٹیں کیوں بند نہیں کرواتے، کیونکہ خود پورن کے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ فحاشی کے خلاف جلوس نکالنے والے دوسروں کی بیٹیوں اور لڑکوں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ اپنے ماتھے پر اسلام کے سٹیکر لگانے والے اپنی جیب میں پڑے موبائل میں وڈیوز تو دکھاؤ ذرا۔ کہلاتے ہو عاشقِ رسول مگر میں نے بہت دیکھے ہیں تم جیسے منافقِ رسول۔

(اسی عنوان پر ایک بہتر تحریر پڑھیے اور سوچیے)

ستاروں سے آگے جہاں۔۔

Posted in General متنوع by Rumi on July 13, 2010

آپ نے کبھی سبزی منڈی میں بیٹھے اس شخص کو دیکھا ہے جو سبزیوں اور پھلوں کی چھانٹی کر رہا ہوتا ہے؟ وہ شخص سائنس کا علم نہیں رکھتا، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ ان دو مختلف معیار کے پھلوں میں کتنے حرارے ہیں، کون سے ایسے مادے ہیں جو اسے صحت مند یا نقصان دہ بنا سکتے ہیں۔ یہ پھل کس شہر کے کس باغ سے آیا ہے؟ وہ شخص صرف اتنا جانتا ہے کہ یہ پھل اچھا ہے اور یہ خراب، کون سا پھل زیادہ معیاری ہے اور کون سا کم نقصان دہ۔

ہم بھی کوئی عالم فاضل نہیں ہیں، قرآن کی ایک آیت سمجھنے کے لیے پورا زور لگانے کے بعد بھی اس کے تمام مطالب نہیں جان سکتے۔ ہم نے حدیث و فقہ کی ساری کتابیں نہیں پڑھیں۔ ہمیں بعض پیشہ وروں کی طرح آیات و حدیث کے حوالے فرفر نہیں آتے۔ ہم ایک اوسط عقل کے مالک انسان ہیں، صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ کام غلط ہے اور یہ درست۔ یہ قدم اسلام کے مطابق اٹھایا گیا ہے اور یہ اپنے موضوع طریق پر اٹھایا گیا ہے۔

ایک تبصرہ نگار نے ہم پر الزام لگایا کہ ہم نیا فرقہ گھڑنے کے چکر میں ہیں، ہم اسلام کے خلاف نئی سازش تیار کر رہے ہیں، ہم سے ہمارے دلائل سے متعلق قرآن و حدیث کے حوالے مانگے۔ ہم نے شیطان کی آنت نہیں دیکھی ہوئی ورنہ اس کی طوالت کے تناسب سے اس تبصرے کی لمبائی چوڑائی بیان کرتے۔ اس تبصرے کا جواب دینے میں کئی ماہ لگ گئے کیونکہ ہم ان “عالمِ عالَم” کی طرح دین و دنیا پر “مکمل عبور” نہیں رکھتے اور نہ ہی ہم بحث کے شوقین ہیں۔ اگر آپ کو ہماری بات میں معقولیت نظر آئے تو غور کیجیے ورنہ اللہ سے اپنی اور ہماری ہدایت کی دعا کیجیے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کا اور ہمارا بھلا ہوگا۔

اللہ نے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رحمتہ اللعالمین کیوں کہا، رحمتہ اللمسلمین یا مومنین کیوں نہیں کہا؟ کیا اللہ نے قرآن میں صرف مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے یا سب انسانوں کو؟ کیا اللہ کی رحمت و کرم صرف مسلمانوں تک محدود ہے؟ اگر نہیں۔۔۔ تو یہ بتائیے کہ جب کوئی شخص معتدل ہو کر تمام انسانوں کے حق میں آواز اٹھاتا ہے تو آپ برافروختہ کیوں ہو جاتے ہیں؟

کیا حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ میری بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کٹوا دیتا؟ کیا اللہ نے یہ نہیں کہا کہ پارسائی کا معیار محض تقوٰی ہے؟ کیا اللہ نے قرآن میں کہیں یہ کہا کہ فلاں فلاں رشتے یا عہدے کی بنیاد پر آپ کو جنت و بخشش کا پروانہ اور فضیلت دی جاتی ہے؟ اگر آپ مانتے ہیں کہ اسلام میں بڑائی کا معیار صرف پرہیزگاری ہے تو آپ محض کسی کی عبادتوں، عہدوں، رشتوں اور “اسلام کے لیے خدمات” کی بنیاد پر اسے ہر طرح کے محاسبے سے ماوراء کیوں سمجھتے ہیں اور اس کے لیے فساد کی پرورش پر تیار کیوں ہو جاتے ہیں؟

جس شخص کو اپنے نظریات پر اعتماد ہوتا ہے وہ مخالف کی بات پر اچھل نہیں پڑتا۔ جو شخص جانتا ہے کہ اس کا عقیدہ کسی اعتراض سے متاثر نہیں ہو سکتا، وہ مخالفت کے جواب میں فتنہ و فساد پر نہیں تُل جاتا۔ جو شخص جانتا ہے کہ اس کے ایمان کی بنیادیں مضبوط ہیں، وہ کسی کی دعوتِ فکر پر اسے سازشی کے خطابات سے نہیں نوازتا۔

اسلام کوئی برتن میں رکھی ہوئی شے نہیں ہے کہ الٹنے سے گر پڑے گی۔ اسلام کوئی دیوار نہیں ہے کہ مخالفین کے دھکوں سے گر جائے گی۔ اسلام کوئی مادی شے نہیں ہے کہ جسے کوئی نقصان پہنچا دے گا۔ اسلام ایک ایسا وسیع دریا ہے کہ جس سے کئی لوگوں نے اپنے مفادات کے لیے نہریں اور نالے نکالے اور انہیں اصلی منبعِ اسلام کا نام دیا۔ اسلام میٹھے اور صاف پانی کا وہ دریا ہے کہ رحمت کے سمندر میں اترتا چلا جاتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ کون اس سے کیا فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ اسلام اللہ کا بنایا ہوا ضابطہِ حیات ہے کہ جسے کوئی خراب نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص نیا فرقہ بنا کر اسے اسلام کا نام دے دیتا ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین اسلام پر “اغیار” نے حملے شروع کر دیے ہیں اور اسے کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجیے اور اپنے کنویں سے باہر نکلیے۔

آپ سمجھتے ہیں کہ آپ دائرہ اسلام میں ہیں؟ بہت خوب۔۔ ہم آپ سے ایک چھوٹی سی گزارش کرتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے، صرف چند منٹوں کی “بریک” لیجیے اور ہوا خوری کے لیے نکلیے۔ آپ کے “دائرہ اسلام” کے ساتھ ہی کچھ اور دائرے بھی ہیں جن میں بہت سے انسان اپنے اپنے عقائد کا جھنڈا بلند کیے تن کے یوں کھڑے ہیں کہ گویا سارے جہان کا علم انہیں میں سمویا ہوا ہے۔ آپ اپنے دائرے سے نکل کر ان سب دائروں سے ذرا فاصلے پر کھڑے ہو جائیے اور انہیں دیکھیے۔

غور کیجیے کہ ان میں سے کون سا دائرہ کتنا کشادہ ہے؟ کون سا دائرہ اپنے مکینوں کو زیادہ سکون پہنچا رہا ہے؟ کس دائرے کے معتقدین میں ایسی باتیں ہیں جو عدل و انصاف اور انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں؟ وہ کون سے نظریات ہیں جو “رحمتہ اللعالمین” کے جاں فِزا الفاظ کے قریب تر ہیں؟ معتدل ہو کر نیوٹرل گراوْنڈ میں کھڑے ہو کر یہ سوچیے کہ کیا فلاں فلاں کے فتاوٰی آپ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسوہِ حسنہ کے مطابق ہیں یا نہیں؟

چاہیے تو 15 منٹ کی بریک لیجیے اور چاہیے تو کچھ دنوں کی۔۔ ہم آپ سے ملیں گے اس بریک کے بعد انشاء اللہ

فیس بک پر پابندی ۔ کج فہمی کا ثبوت

Posted in Media میڈیا by Rumi on May 19, 2010

اگر کوئی شخص آپ کے گھر کے سامنے چار لوگوں کو لے کر کھڑا ہو جائے اور آپ کی برائی شروع کر دے تو کیا آپ دروازہ بند کر کے اپنے گھر میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے؟ یا باہر نکل کر اسے جواب دیں گے؟

ہمیں پاکستانی عوام کی سوچ اور رویہ دیکھ کر شدید دکھ ہوتا ہے کہ اسلام کی روشنی نے ہمارے ذہنوں کو ذرا بھی منور نہیں کیا؟ وہ بصیرت اور معاملہ فہمی جو ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے، اسے کیوں ہم اپنی زندگیوں میں استعمال نہیں کرتے؟

فیس بک پر ایک صفحہ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کی گئی تو آپ نے وہ ویب سائیٹ ہی بلاک کر دی؟ یعنی ان لوگوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ ہم تم سے ہار کر پسپا ہو رہے ہیں اب تم جو مرضی کرو۔ کیا یہ آپ کی رسول سے محبت ہے؟

محبت تو یہ ہے کہ کوئی آپ کے محبوب کو ایک گالی دے تو آپ اپنے محبوب کی ایک ہزار تعریفیں کرو۔ آپ کے رسول کی شان میں ایک صفحہ پر گستاخی کی گئی ہے تو آپ ایک ہزار صفحات بنا کر نبی اللہ کی شان بیان کرو۔ جس صفحہ پر گستاخی کی گئی ہے اس کے خلاف فیس بک پر ہی محاذ بناؤ۔

ہماری جو مسلمان قوم ہے، اس کے پاس ہے کیا؟ دو کوڑی کی اوقات نہیں ہے۔ کیا ہم فیس بک جیسی ویب سائیٹ بنا سکے ہیں؟ کیا ہم نے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کوئی ایسا کام کیا ہے، کوئی ایسی ایپلیکیشن یا ویب سائیٹ بنائی ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم اپنے آپ کو منوا سکیں اور اپنی آواز دوسروں تک پہنچا سکیں؟

ایک تو آپ خود کچھ کر نہیں سکتے، طُرہ یہ کہ گورا آپ کو جو سہولیات دیتا ہے انہیں استعمال کرنے کا آپ کو ڈھنگ نہیں آتا۔ پھر کہتے ہیں کہ ہمیں کیوں مارا جا رہا ہے۔

خدارا اپنی سوچ کو وسیع کیجیے، معاملات کو ہر پہلو سے اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ دیکھا کیجیے۔ یہ جو جذباتیت ہے اس نے ہمیں چودہ سو سال سے ذلیل کیا ہوا ہے، برائے مہربانی جذبات سے نہیں عقل و خرد سے کام لینا سیکھیے۔ آپ کو جو پلیٹ فارم میسر ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ اور اپنے حقوق کا دفاع کیجیے۔

I Can Take My Country Out of Turmoil

Posted in Solution مسائل کا حل by Rumi on March 11, 2009

What do you think, is the mostly uttered word in Muslim world, especially in Pakistan? Is it Allah or Muhammad? No, it’s none of these. The most widely spoken word is America (or United States of America).

Why do we assume ourselves inferior? Why do we under estimate ourselves? We are always looking towards U.S.A. People always say U.S is doing wrong, U.S should do this, U.S must not do that, U.S is destroying us, U.S government didn’t take us into confidence, etc. What the heck is this? Come one guys, let’s grow up!

Why do we give others the opportunity to interfere in our matters and decide our fate? If we ourselves are strong, no country or group will have the courage to dictate us. No one will be able to decide what we should do. U.S.A will not be able to give us directions if we stand on our feet. Come on people, let’s stop looking at others and do work for our country, for our people, for ourselves!

You might say that America is a cruel country and she’s persecuting innocents. My dear, if the innocent is standing on his feet, has courage and strength, then who will be able to thrash him? If you say that America or some other countries didn’t let you have strength, then I will just smile. :)

If your weight is 40Kg, your arms and legs are weak; you will be a very easy target of everyone. People will scold you, torture you and make you their slave. But if you are strong, you know martial arts, you have up-to-date weapons, you have enough wealth and you have the courage in your mind and strength in your body, then no one can even think about raising finger on you!

I believe that “God has created antidote for everything”; this is my philosophy. Newton didn’t create his thrid law, he just discovered it, “To every action there is an equal and opposite reaction.” There is cure of every disease in this world, there is solution to every problem, we just have to find it! God sent us bare-handed in this world, but he gave us unlimited opportunities and resources to help us fill our hands with anything and everything we like.

If I stop doing corruption, if I have courage, if I do hard work, if I get knowledge and hence strength, then I will make myself a good human being. Then I will help my family, my friends and my fellows to improve themselves and make them good humans. This is a chain process, once it starts it will never end. Eventually we will build a very strong community, society and a developed progressive country. This is my dream, this is your dream, this is our dream. Come on people let’s do it. The only way to make a dream come true is Wake Up!!

مسلمان اور بالخصوص پاکستانی کون سا لفظ سب سے زیادہ بولتے ہیں؟ اللہ یا محمد؟ جی نہیں ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ لوگوں کی زبان ہر وقت ایک ہی وِرد کرتی ہے، امریکہ امریکہ امریکہ۔۔

ہم احساسِ کمتری کا شکار کیوں ہیں؟ ہماری نظریں ہر وقت امریکہ کی جانب کیوں اُٹھی رہتی ہیں؟ ہم یہ کیوں کہتے رہتے ہیں کہ امریکہ کو یہ کرنا چاہیے، یہ نہیں کرنا چاہیے، امریکہ ہمیں تباہ کر رہا ہے، امریکی حکومت نے ہمیں اعتماد میں لیے بغیر یہ فیصلہ کر لیا۔ یہ سب کیا ہے۔ ہم بڑے کب ہوں گے؟

ہم دوسروں کو یہ موقع کیوں دیتے ہیں کہ وہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی کریں اور ہماری قسمت کا فیصلہ کریں؟ اگر ہم خود مضبوط ہوں تو کسی ملک یا گروہ میں ہمارا لیڈر بننے کی جرات نہیں ہوگی، کوئی اس قابل نہیں ہوگا کہ ہمیں بتائے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ امریکہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی کرنے کے قابل نہیں ہوگا اگر ہم خود اپنے پاوں پر کھڑے ہوں۔ آئیے ہم دوسروں سے امیدیں لگانا ختم کریں اور اپنے ملک، اپنے لوگوں اور اپنے لیے محنت اور لگن سے کام کریں۔

آپ کہیں گے کہ امریکہ ایک ظالم ملک ہے جس کا کام ہی کمزوروں پر ظلم کرنا ہے۔ میرے عزیز: اگر “کمزور” اپنے پاوں پر کھڑا ہو، اس میں ہمت اور طاقت ہو تو کون اُس پر ظلم کر سکے گا؟ اگر آپ کہیں کہ امریکہ یا کسی اور ملک نے آپ کو طاقتور نہیں بننے دیا، تو اس بات پر صرف مسکرایا ہی جا سکتا ہے۔

اگر آپ کا وزن چالیس کلوگرام ہو اور آپ کی ٹانگیں اور بازو بے جان ہوں تو آپ ہر ایک کے نشانے پر ہوں گے۔ لوگ آپ کو دھتکاریں گے، آپ کو ماریں گے اور آپ کو اپنا غلام بنا کر رکھیں گے۔ لیکن اگر آپ مضبوط ہوں، آپ کو مارشل آرٹس آتا ہو، آپ کے پاس جدید ہتھیار ہوں، کافی دولت ہو، آپ کے دل میں حوصلہ اور جسم میں طاقت ہو تو کوئی آپ پر انگلی بھی نہیں اٹھا سکے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ “اللہ نے ہر شے کی مخالف شے تخلیق کی ہے”۔ بدی ہے تو نیکی ہے، خباثت ہے تو شرافت بھی ہے، مشکل ہے تو اس کا حل بھی اللہ نے بنایا ہے۔ اللہ نے اس دنیا میں ہمیں خالی ہاتھ بھیجا، لیکن اس نے ہمیں لاتعداد صلاحیتیں اور ذرائع بھی فراہم کیے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اہم کس طرح ان صلاحیتوں کے ذریعے وسائل کو استعمال کریں اور اپنے آپ کو طاقتور اور بہتر انسان بنائیں۔ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد کرنا چاہے۔ وہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا چاہے آپ کتنے ہی گناہگار کیوں نہ ہوں، بس آپ اس سے مانگیں اور خود بھی کوشش کریں، پھر دیکھیں اللہ آپ کو اتنا کچھ دے گا کہ آپ اپنی ساری کلفتیں بھول جائیں گے۔

اگر میں کرپشن چھوڑ دوں، جھوٹ اور دیگر برائیوں سے دور رہوں، ہمت کروں، محنت کروں، علم حاصل کر کے مضبوط بنوں، تو آخر کار میں ایک اچھا انسان بن جاوں گا۔ پھر میں اپنے خاندان، اپنے دوستوں اور اپنے قریب رہنے والوں کی رہنمائی کروں گا کہ وہ کیسے بہتر انسان بنیں۔ پھر میرے رشتہ دار دوست اور پڑوسی بھی میری طرح اچھے اور ایمان دار بن جائیں گے۔ وہ دوسرے لوگوں کو بہتر بنائیں گے۔ یہ سلسلہ چلتا جائے گا اور ہمارا معاشرہ ایک بہترین معاشرہ بنتا جائے گا۔ اس طرح ہمارا ملک ایک خودمختار اور ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔

یہ میرا خواب ہے، یہ آپ کا خواب ہے، یہ ہم سب کا خواب ہے۔ آ ئیے اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کریں۔ آئیے اس خواب کو حقیقت بنائیں۔ کسی بھی خواب کو حقیقت بنانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے بیداری۔ جاگو!!

اپنے بچوں کو تباہ مت کیجیے

Posted in Young Generation نوجوان by Rumi on January 16, 2009

انسان کے لیے سب سے بڑی عدالت وہ خود ہوتا ہے ، اُس کا ضمیر ہوتا ہے ، اُس کا نفس ۔ یہ ناممکن ہے کہ دماغی طور پر نارمل شخص اپنی عدالت میں پیش نہ ہوتا ہو ۔ کبھی کبھی انسان کا اپنا وجود اُس کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے ، کبھی انسان اپنی ہی نظروں میں گِر جاتا ہے ۔ ہر اِنسان جانتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ حقیقت پہ پردہ ڈال کر کسی اور سمت میں نکل جائے ۔

ہم جب بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوئے تو زندگی سے شناسائی ہونے لگی ۔ چند ہی برسوں میں ہمیں دنیا upside down دکھائی دینے لگی ۔ جیسی ہم بچپن سے ، بارہ چودہ سالوں سے دیکھتے اور محسوس کرتے آ رہے تھے ، اس سے بالکل مختلف ۔ لوگوں کے چہرے بدل گئے ، اُن کے رویے ، اُن کے انداز بدل گئے ، یا شاید وہ ویسے ہی تھے ، شاید ہم بدل گئے تھے ۔ تب ہمیں زندگی کا ، اِس دنیا کا اِدراک ہونے لگا ۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ جب ہمیں ایک زبردست جھٹکا لگا اور ہماری آنکھیں پوری طرح کھل گئیں ۔

ہم نے دیکھا کہ ہم جس معاشرے میں دو عشروں سے رہتے آرہے تھے ، وہ غلاظت میں لتھڑا ہوا تھا ۔ یہ غلاظت اخلاقی بھی تھی اور طبعی بھی ۔ بیشتر لوگ اندر سے بھی گندے اور باہر سے بھی گندے ۔ دِلوں میں تلخی اور گلیوں میں گندگی ۔ جابجا کوڑا کرکٹ بکھرا ہوا اور لوگ اس کے بیچ میں سے ، اس کے اوپر سے یوں گزر رہے ہیں جیسے نیچے گند نہیں بلکہ سُرخ قالین بچھا ہو ۔ گٹروں کا پانی گلیوں اور سڑکوں پہ یوں موجود ہے جیسے عمارات بنی ہی اس گند میں ہیں ، اٹلی کے شہر وینس کی طرح ۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، کوئی پارک ، باغ درست حالت میں نہیں ہے ۔ رشوت ، سفارش ، گالی گلوچ ، ہر طرح کی برائی ہم میں موجود ہے اور ہم اسی میں جیے جا رہے ہیں ۔

اِس صورتِ حال نے ہمیں یہ سوچنے پہ مجبور کیا کہ آخر لوگوں کو اس کا اِدراک کیوں نہیں ہے ؟ وہ کیوں اس گندگی کو ختم نہیں کرتے ۔ اس کا جواب ہمیں یہ ملا کہ لوگ خود ہی ٹھیک نہیں ہونا چاہتے ۔ اگر کوئی سفارش ختم کر دے گا تو وہ اپنے مفادات کہاں سے حاصل کرے گا ؟ اگر کوئی رشوت دینا بند کر دے گا تو وہ خود رشوت کیسے لے گا ؟ اگر کوئی اپنی گلی کو صاف رکھنے لگے گا تو اس پر وقت اور سرمایہ خرچ ہوگا ۔ ہر شخص اپنا بوجھ دوسرے پر منتقل کرنا چاہتا ہے ۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی جنبشِ انگشت سے سب ٹھیک ہو جائے ، پر اسے کچھ نہ کرنا پڑے ۔

ہم یہ سوچ سوچ کر حیران و پریشان ہوتے ہیں کہ جن والدین کو اپنی اولاد کے کھانے پینے ، خوش رہنے ، تعلیم حاصل کرنے ، بڑے عہدوں پر فائز ہونے کی بہت زیادہ فکر ہے ، انہیں یہ فکر کیوں نہیں ہے کہ اُن کی اولاد ایک اچھے ماحول میں رہے ؟ جو نوجوان آج غلط حرکتوں میں مشغول ہے ، اُسے یہ فکر کیوں نہیں ہے کہ کل کو اس کی اولاد کے ساتھ کوئی اور یہ سب کرے گا ؟ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پیار کرنے والا شخص یہ کوشش کیوں نہیں کرتا کہ جب اس کے بچے بڑے ہوں تو وہ ایک صاف ستھرے شہر میں رہیں ۔ ان کی گلیاں صاف ہوں ، سڑکیں ہموار اور کشادہ ہوں ، ان کی تفریح کے لیے سرسبز پارک ہوں ، انہیں اچھی آب و ہوا ملے ، جب وہ کسی دفتر میں کسی کام سے جائیں تو ان کے ساتھ ناانصافی نہ ہو ۔

جو قوم اپنے مستقبل کی فکر نہیں کرتی ، وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہے ۔ بھارت نے آج سے تیس سال قبل یہ جان لیا تھا کہ ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے ۔ بھارتیوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی ، اپنا نظامِ تعلیم بہتر کیا ، بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے روابط قائم کیے ۔ آج دیکھ لیجیے کہ بھارت دنیا کا تیز رفتار ترین ترقی کرنے والا ملک بن گیا ہے ، چاند پر پہنچ چکا ہے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں کتنا آگے چلا گیا ہے ۔ آؤٹ سورسنگ کا گڑھ بن چکا ہے ۔ کون سا بین الاقوامی ادارہ ہے جو بھارت میں کام نہیں کر رہا ؟ یہ سب ان کی دوراندیشی کے سبب ممکن ہوا ہے ، تعلیم نے انہیں یہ سب دیا ہے ۔ جبکہ ہمیں دیکھیے ، ہمیں آج دنیا میں سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ، جہاں جاتے ہیں دہشت گرد قرار پا کر قید کر دیے جاتے ہیں یا ڈی پورٹ ۔

ہم پاکستانی مرد اپنی “مردانگی” کے لیے بہت حساس ہیں ۔ اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیے بڑے سے بڑا چیلنج قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ لیکن جب اپنے ملک کو ٹھیک کرنے کی بات آتی ہے تو ایک نکڑ میں سمٹ جاتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ یہ نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا ۔ جناب ملک افراد سے بنتا ہے ، اگر افراد خراب ہوں گے تو ملک بھی خراب ہوگا ، اگر وہ ٹھیک ہوں گے تو ملک بھی ٹھیک ہوگا ۔ ہم ہی ہیں جو اِس ملک کو ، اس نظام کو ٹھیک کر سکتے ہیں ۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں ۔ اگر آپ اپنے لیے کچھ نہیں کرنا چاہتے تو اپنے بچوں کا ہی خیال کر لیجیے ۔!

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.