ابتدائیہ
انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔ انسان دوسری مخلوقات سے ممتاز کیوں ہے؟ اس لیے کہ خدا نے اسے تخیّل (Thinking Power) اور آزادی عطا فرمائی ہے۔ مکمل آزادی ، اتنی آزادی کہ انسان کی تقدیر بھی اس کے حوالے کر دی۔ اسے ایک بہت بڑی تجربہ گاہ (یہ کائنات) فراہم کر دی کہ وہ یہاں اپنے تخیّل کو بھرپور آزادی کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے جو کرنا چاہے ، کرے۔
انسان کو معاشرتی حیوان کہا جاتا ہے۔ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا، مِل جُل کر رہنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔ کئی انسان مِل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ جب انسان صرف اپنے مفادات کو تحفظ دیتا ہے تو ایک بُرا معاشرہ تشکیل پاتا ہے، جب وہ اجتماعیت کو اہمیت دیتا ہے اور دوسرے انسانوں کی بھلائی کے لیے کام کرتا ہے تو ایک اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
اِسے ہماری خوش قِسمَتی کہیے یا بدقِسمَتی ، کہ ہم ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے جو “اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں رہائش پذیر ہے۔ بچپن انسان کی زندگی کا سُنہرا دور ہوتا ہے، چاہے اس کے گھر کے حالات کتنے ہی بُرے کیوں نہ ہوں ، اسے زندگی کی تلخیوں کا اِدراک نہیں ہوتا۔ ہر اِنسان اپنے بچپن سے بھرپور انداز میں لُطف اندوز ہوتا ہے۔ ہم ایک متوسّط گھرانے میں پیدا ہوئے، پیدائش کے وقت سونے کا چمچ تو ہمارے منہ میں نہ تھا مگر ہم نے اپنے بچپن اور لڑکپن کے مزے خوب لُوٹے ۔ مگر جوں جوں ہم بڑے ہوتے گئے، زندگی کے تلخ حقائق ہمارے سامنے آتے گئے۔ بالآخر ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جو بہت تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہے۔ یہ معاشرہ ہر طرح کی بُرائی سے آلودہ ہے، اخلاقیات کے بارے میں یہ مصرع نہایت موزوں رہے گا کہ “اب ڈھونڈ انہیں چراغِ رُخِ زیبا لے کر”۔ ایسی کون سی برائی ہے جو اِس پاکستانی “اِسلامی” معاشرے میں نہیں ہو رہی۔ ظلم، جبر، غربت، نااِنصافی ، ہر ہتھیار سے انسانیت کی تذلیل کی جارہی ہے۔
ہم نے کُتب بینی کی، علماء سے سوال کیے، احباب سے مباحث کیے کہ آخر ہم بدترین قوموں کی صَف میں کیوں کھڑے ہیں؟ ہمارے پاس تو دُنیا کا بہترین مذہب “اسلام” موجود ہے جس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے، پھر ہم اہلِ مغرب سے ہر معاملے میں پیچھے کیوں ہیں؟ ہم کیوں بُرائی کی دلدل میں روز بروز دھنستے جا رہے ہیں؟ مطالعہ، بحث اور بہت سوچنے کے بعد ہمیں جب اِن باتوں کا جواب مِلا تو یقین جانیے کہ ہماری بنیادیں ہِل گئیں اور چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہماری بربادی کا سبب ہے ہمارا مذہب۔
یہ وہ اِسلام نہیں ہے جو اللہ (خُدا) نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو دیا۔ یہ وہ اسلام نہیں ہے جو خاتم الانبیاء “محمد بن عبداللہ المصطفٰی” لائے تھے۔ یہ وہ مذہب نہیں ہے جو ہمیں صِراط المستقیم پر چلائے اور ہمیں صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات بنائے۔ یہ اسلام کا بُری طرح مسخ شدہ (destroyed) ورژن (version) ہے۔ یہ “مُلاں اِزم” ہے جو بطورِ خاص ظالموں، جابروں اور مفادپرستوں کو تحفظ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ہم نے یہ بلاگ اس لیے بنایا ہے کہ اچھے انسان اور اچھا معاشرہ تشکیل دیا جائے اور حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اصل پیغام کو پھیلایا جائے۔ واللہ ہماری نیت بالکل ٹھیک ہے اور ہم کسی فتنہ، فساد، شرانگیزی یا سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہے۔ نہ ہی ہمیں کسی این جی او، حکومت یا بیرونی امداد کا ساتھ حاصل ہے اور نہ ہی ہم اس کے خواہش مند ہیں۔
ہم اردو بلاگروں کے شُکرگُزار ہیں کہ ان کی تکنیکی مدد کی بدولت ہم نے یہ بلاگ ترتیب دیا اور اپنے کمپیوٹر پر اردو لکھنے پڑھنے کے قابل ہوئے۔ لیکن شاید وہ ہماری اس ویب سائیٹ سے خوش نہ ہوں کہ ہمارے خیالات ان کے نظریات کی نفی کرتے ہیں۔ ہماری نیت نیک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کی نیت نیک ہے، مسئلہ ان کے غلط نظریات کا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم بالکل حق بجانب ہیں، ہم میں بھی کئی خامیاں ہوں گی، لیکن ہمارے فلسفہ کی بنیاد ٹھیک ہے جسے سامنے رکھ کر ہم مختلف عوامل کے بارے میں سوچتے ہیں۔
آپ کو ہماری تحریروں پر رائے دینے کی آزادی ہے، اگرچہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بلاگ پر بہت کم تبصرے ہوں گے کیونکہ مسلمان اکثر ان لوگوں سے دور رہتے ہیں جو ان کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ ہم تبصرہ کرنے والے افراد سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہماری تحریروں پر شائستہ انداز میں تنقید کریں اور اگر ہمیں گالیاں دینے کی ضرورت پیش آئے تو غائبانہ دے دیجیے، ہم ناشائستہ تبصرے شائع نہیں کرتے۔
بہت اچھی سوچ ہے۔ امید ہے آپ کے بلاگ پر بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
اردو بلاگنگ میں خوش آمدید
شکریہ ماورا۔ ہم آپ کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔
[...] ہوں اور آپ ان سے اکتا چکے ہوں۔ اگر آپ نے ہماری تحریر “ابتدائیہ” پڑھی ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ ہم اپنے آپ اور اپنے [...]