Moashrah معاشرہ

طوائف بھی انسان ہے

Posted in Women خواتین by Rumi on January 4, 2009

دنیا کے قدیم ترین پیشوں میں سے ایک ”جسم فروشی“ ہے۔ یہ اُن پیشوں میں سے ایک ہے جو بنی نوع انسان پر جبراً مسلط کیے گئے ہیں؛ یہ پیشہ انسان کی فطرت کے ظالمانہ پہلوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ ظلم کی وہ قسم ہے جس میں مشقِ ستم ہمیشہ مظلوم کو بنایا جاتا ہے اور اسے گناہ گار ٹھہرا کر سزا دی جاتی ہے۔ شروع سے لے کر آج تک ”طوائف“ کو قابلِ نفرت و ذِلت سمجھا جاتا رہا ہے، حالانکہ معاملہ برعکس ہونا چاہیے اگر انصاف سے کام لیا جائے تو۔

برصغیر کے مسلمانوں کے پسندیدہ حکمران ”اورنگزیب عالمگیر“ نے تخت نشینی کے بعد اعلان کیا کہ تمام طوائفیں جلد از جلد نکاح کر لیں ورنہ انہیں کشتی میں ڈال کر دریائے جمنا میں ڈبو دیا جائے گا۔ ”حضرت“ عالمگیر ان ”مسلمان“ فرمانرواؤں میں سے تھے جنہیں راسخ العقیدہ اور پابندِ شریعت کہلوانے کا شوق تھا اور اس مقصد کے لیے وہ ہر قسم کا فعل کرنے کو تیار تھے۔

جب اُستاذ کتاب رکھ کر ڈنڈا اٹھا لے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ناکام ہو گیا، اور جب وہ معصوم بچے کو روئی کی طرح دھنک رہا ہو تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب اس شخص کا عقل کی سرحدوں سے بھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔ انسان کی عمومی اور مسلمانوں کی خصوصی خامی یہ ہے کہ یہ ہر معاملے کو سطحی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کمزور کو تختہِ دار پر چڑھا کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ برصغیر کے استادوں کا عموماً یہ وطیرہ رہا ہے کہ یہ خِرد سے کام لینے کی بجائے دست و بازو استعمال کرتے ہیں۔ یہ طالب علم کی ناکامی کے اسباب معلوم نہیں کرسکتے، الٹا اسے مار پیٹ کے ذریعے تعلیم سے برگشتہ کر دیتے ہیں۔

آپ نے ”آ بیل مجھے مار“ کا محاورہ تو سنا ہی ہوگا، ذرا یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بقائمی ہوش و حواس بیل کی ٹکریں کھانے جائے، تو قصور کس کا ہوگا، اس شخص کا یا بیل کا؟ ہماری عادت ہے کہ ہم اس شخص کو روکنے کی بجائے بیل کی گوشمالی شروع کر دیتے ہیں کہ اس نے ٹکر کیوں ماری۔ اس احمق کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتے جو ایک غلط کام کے لیے پیش ہوا۔

جو عالمگیر نے کیا، وہ ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے۔ گاہک کو روکنے، پکڑنے اور سزا دینے کی بجائے طوائف کو دھر لیا جاتا ہے۔ جو شخص ”اس بازار“ یا گھر میں داخل ہو رہا ہے، اسے تو کچھ نہیں کہا جاتا، طوائف کو گرفت میں لے لیا جاتا ہے۔

کبھی کوئی عورت بخوشی اپنا جسم فروخت کرنے پر راضی نہیں ہوتی۔ بلکہ کئی خواتین تو اپنے شوہروں کے ساتھ ہمبستری کے لیے بھی تیار نہیں ہوتیں۔ سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ خواتین کی جنسی خواہشات جلد کمزور اور ختم ہو جاتی ہیں۔ جس عورت کو اس کے جائز حقوق میسر ہوں، وہ کبھی جسم فروشی پر تیار نہیں ہوگی، جتنا بڑا لالچ مرضی دے کر دیکھ لیجیے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ طوائفوں کو پیسوں کا لالچ ہوتا ہے، ہاں ایسا ہوتا ہے مگر بہت کم۔ بہت کم ایسی ہوتی ہیں کہ اچھی خاصی دولت حاصل ہونے کے بعد بھی اسی گھناؤنے کاروبار میں ملوث رہتی ہیں۔ جس انسان کو آپ سالوں سال گند میں دبائے رکھیں، کیا اُس میں بدبو نہیں رچ جائے گی؟

اکثر عورتوں کو زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے، بیشتر خواتین اغوا شدہ ہوتی ہیں۔ ان سے پیشہ کرانے والے انکار کی صورت میں ان پر تشدد کرتے ہیں اور بعض اوقات قتل بھی کر دیتے ہیں۔ کئی عورتوں کو دن میں بیسیوں خبیث بھگتانے پڑتے ہیں، اس صورتِ حال میں انہیں ”سُن“ کرنے والی ادویات استعمال کرائی جاتی ہیں تاکہ وہ اور ان کے اعضاء بے حِس ہو جائیں۔ اسقاطِ حمل کی ادویات بے دریغ کھانے اور جنسی تشدد سے بیشتر خواتین کی جسمانی حالت ابتر ہوتی ہے۔ جب تک یہ طوائفیں علاقے کے تھانیدار اور دیگر افسران کو خوش رکھیں، ان پر گرفت نہیں کی جاتی۔ بصورتِ دیگر پولیس ان کا جو حال کرتی ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔

ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ایک پُرسکون گھر ہو جس میں وہ عزت کے ساتھ زندگی بسر کر سکے۔ کبھی کوئی انسان اپنی بے توقیری پہ خوش نہیں ہوتا۔ اور عورت کو تو فخرِ انسانیت ”محمد مجتبٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ نے آبگینوں اور پھولوں سے مشابہت دی ہے، کہ یہ ان کی مانند نازک ہوتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے؟ اس کا حل موجود ہے، بشرطیکہ اس پر عمل درآمد کیا جائے۔

ضرورت اس اَمر کی ہے کہ جسم فروش عورتوں کو صحیح معنوں میں تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہیں ہنر سکھائے اور مناسب روزگار دیے جائیں۔ انہیں نکاح کرنے اور عزت سے زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے گاہکوں اور ان سے زبردستی پیشہ کرانے والوں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔

لٹریچر کو ”ریگولیٹ“ کیا جائے۔ آپ ذرا اردو شاعری و نثر کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، کوئی مقام طوائف سے خالی نہیں ہے۔ ہمارے عظیم شعراء اور مصنفین نے اس انداز میں کوچہِ ملامت کے ”فضائل“ بیان کیے ہیں کہ بندہ نہ جاتا ہوا بھی جائے۔ انگریزی لٹریچر میں ہمہ قسم خرافات موجود ہیں، مگر اردو کتب اس لحاظ سے ممتاز ہیں کہ یہ قاری کو ترسا ترسا کر مارتی ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ مکمل برہنگی کی نسبت نیم برہنہ مناظر زیادہ شہوت انگیز ہوتے ہیں، یہی اردو ادب کی ”خوبی“ ہے۔ ہمارے شعراء اور ادیبوں نے جس دھڑلے سے اپنے کرتوتوں کا اقرار اپنے کلام اور شہوانح حیات میں کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں مجرم کو کتنی آزادی حاصل ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.