شخصیت پرستی ہے تباہی کی وجہ
جسے آپ اسلامی تاریخ کہتے ہیں، دراصل وہ مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ یہ اسلامی تاریخ کیوں نہیں ہے، اس پر ہم گفتگو کرتے رہیں گے ۔ بہرحال اس تاریخ میں آپ کو جو عنصر فراوانی سے ملے گا ، وہ ہے جنگ ۔ مسلمانوں کی جنگوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ عربوں نے بہت جلد عجمیوں پر فتح حاصل کر لی ۔ اب آپ یہ کہیں گے کہ مسلمانوں میں عربی و عجمی کی تفریق کیوں کر رہے ہو ؟ دیکھیے جناب ، عربوں نے ہمیشہ اپنی نسل پر فخر کیا ہے اور یہ فخر آج بھی قائم ہے ۔ آج بھی آپ کو ایسے عربی ملیں گے جو غیر عربیوں کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیے کہ کتنے عربی ، عجمی فساد ہوئے ہیں (مسلمانوں میں) ۔
بہرکیف ، عربوں کے مقابلے میں ایرانیوں اور رومیوں کی شکست کی ایک وجہ تھی ؛ شخصیت پرستی ۔ تاریخ کی کتابوں میں یوں لکھا ہوتا ہے کہ “۔۔اپنے سپہ سالار کو قتل ہوتے دیکھ کر ایرانیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھاگ نکلے۔۔” یہ شے آپ کو عربوں میں نہیں ملے گی ۔ مسلمانوں کی جانب آئیے تو معلوم ہوگا کہ لڑائی کے دوران جب سپہ سالار شہید ہو گیا تو اس کی جگہ دوسرے نے سنبھال لی ، وہ شہید ہوا تو کسی اور نے کمان سنبھال لی ۔ مسلمان جنگجوؤں کو اپنے جرنیل کے قتل ہونے سے فرق نہیں پڑتا تھا ۔ جبکہ غیر مسلم لوگ اپنے جرنیل کے قتل کے بعد بالکل دل شکستہ ہو جاتے اور پسپائی اختیار کر لیتے ۔
یہ ہے شخصیت پرستی ؛ اسی نے آج ہمارا اور دنیا کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے ۔ لوگ اپنے لیڈروں کے طفیلیے بنے ہوئے ہیں ۔ جہاں لیڈر جائے گا ، یہ اس کے پیچھے پیچھے جائیں گے ، بھلے وہ انہیں کسی اندھے کنویں میں گرا دے یا انہیں ویرانے میں گم کر دے ۔ ہم لوگ اپنے لیڈروں ، فنکاروں ، مذہبی رہنماؤں اور بزرگوں کی پرستش کرتے ہیں ۔ ہم خود علم حاصل کرنے ، حالات کا تجزیہ کرنے اور اپنی سوچ کو وسیع کرنے کی بجائے اپنے رہنماؤں پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں خاندانوں کے خاندان کسی ایک سیاسی پارٹی کے وفادار ہوتے ہیں اور ہر صورتِ حال میں اس جماعت اور اس کے رہنماؤں کے اعمال کو justify کرتے ہیں ۔ ہمارا مذہبی لیڈر بڑی سے بڑی (معاف کیجیے گا)“چبل”بھی مار دے گا تو ہم اس پر لعنت بھیجنے کی بجائے اس کے جواز تلاش کریں گے اور یہ کہیں گے کہ اس کا درجہ اتنا بلند ہے کہ ہم اس کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں ۔ بندہِ خدا! انسان کا درجہ اس کے اعمال ، اقوال و خیالات سے بنتا ہے ، جب انچیزوں میں خرابی آئے تو اس کا رتبہ برقرار نہیں رہتا ۔
آج کل عمران خان نوجوانوں میں بہت مقبول ہے ۔ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ بندہ قابل ہے اور اسے موقع دیا جائے تو کام کر سکتا ہے ، یہ اندازہ اس کے شفاخانہ اور یونیورسٹی کو دیکھ کر لگایا ہے ۔ لیکن کیا اس کی جماعت میں “ون مین شو ” نہیں ہے ؟ اگر اس وقت خدانخواستہ عمران خان کو کچھ ہو جاتا ہے تو اس کی پارٹی کا کیا بنے گا ؟ کون جانتا ہے کہ اس کی جماعت کے فعال رہنما کون ہیں ؟ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے حلقہ میں اس کےامیدوار برائے اسمبلی کون ہیں ۔ اس کی جماعت کی تنظیم کیسی ہے اور آج کل اس کے ارادے کیا ہیں ؟ اس کے حلقہِ ارادت میں نوجوانوں کی طاقت ہےجو اس ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں ۔ لیکن وہ نوجوانوں سے ٹھیک طرح سے رابطے میں نہیں ہے ۔ وہ نوجوانوں کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کی سعی نہیں کر رہا ۔ ہم نے تو کبھی اپنے شہر میں نہیں دیکھا کہ اس کی جماعت والوں نے کبھی کوئی جلسہ کیا ہو یا سیمینار منعقد کرایا ہو ۔
اگر کوئی شخص اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہے تو اسے اپنے لوگوں کو مکمل اعتماد میں لینا چاہیے ۔ بالا بالا ملاقاتیں کرنے کی بجائے اپنے لوگوں سے کھلم کھلا بات کرنی چاہیے ۔ ہمیں کیا معلوم کہ نواز شریف ، آصف زرداری اور دیگر سیاسی رہنما کیا کرتے رہتے ہیں ؟ یہ لوگ غیر ملکی حکمرانوں ، سفیروں اور سیاسی لوگوں سے ہمارے مستقبل کے متعلق گفتگو کرنے کے بعد ایک چھوٹی سی پریس کانفرنس کرتے ہیں جس میں چند سوالات کے گول مول جواب دینے کے بعد صحافیوں کو چائے پانی پلا کر رخصت کر دیتے ہیں ۔ یہ اپنی گفتگو کیوں نشر نہیں کرتے ؟ ایسی کیا راز کی باتیں ہوتی ہیں کہ ہمیں نہیں بتائی جا سکتیں ؟ ہماری زندگیوں کے سودے بند کمروں میں کر دیے جاتے ہیں ۔ ہم پھر بھی انہی کی پوجا کرتے ہیں ۔
ہم سے پہلے کا زمانہ بہتر تھا کہ اس وقت انسان کا انسان سے تعلق بہتر تھا ۔ لوگ زیادہ سوشل تھے ، ملنا جلنا زیادہ تھا ، چوپالیں اور علمی مجلسیں منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ جبکہ آج کا انسان مشینوں میں رہ کر مشین بن گیا ہے ۔ وہ مادہ پرستی میں ڈوب چکا ہے ۔ اب تو والدین سے بات کرنے کا بھی وقت نہیں ملتا ۔ بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو کنڈر گارٹن میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ کم از کم سولہ سال وہ ایسی کتابوں اور استادوں کے چکر میں گم رہتا ہے جو اسے عالم نہیں ، کلرک اور کاٹھ کا اُلو بناتی ہیں ۔ ہمارے بزرگ قابلِ تعظیم ہیں کہ انہوں نے زندگی کو ہم سے زیادہ دیکھا ہے ۔ ان کے پاس وقت زیادہ تھا اور علم حاصل کرنے کے مواقع زیادہ ۔
تاہم ، ہم ان پر مکمل بھروسہ نہیں کر سکتے ، خاص طور پر مذہب کے معاملے میں ۔ قرآن کی درستگی اور صحت میں کسی کو شبہ نہیں ۔ مگر دیگر کتب جو آج ہمارے پاس ہیں ، ان کی صحت کی کیا ضمانت ہے ؟ احادیثِ رسول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں ، لیکن کون نہیں جانتا کہ کتنی ہی حدیثیں لوگوں کو اشرفیاں دے کر بنوائی گئیں ؟ ہمیں کسی معاملے میں صاف نظر آتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے ، آپ حدیث لے آتے ہیں کہ نہیں اس کام کو تو یوں کرو ۔ امام ابو حنیفہ علیل ہیں اور وفات سے کچھ پہلے موزوں پر مسح کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ میں نے آج وہ کام کیا ہے جس سے ساری عمر دوسروں کو منع کرتا رہا ۔ ابو حنیفہ امام جعفر صادق کے شاگرد ہیں اور کئی لوگ انہیں شیعہ قرار دیتے ہیں ، جبکہ آج حنفی سنی کہلاتے ہیں ۔ امام شافعی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آخر میں شیعہ ہو گئے تھے لیکن چونکہ انہوں نے اپنا فقہ سنی ہونے کی حالت میں مرتب کیا تھا اس لیے وہ قابلِ عمل ہے ؛ یہ کیا مذاق ہے ۔ اس کنفیوژن کے بعد کوئی صاحبِ عقل کیا کرے گا ؟
اگرآپ سنی ہیں تو ہمیں غیر مقلد یا شیعہ قرار دیں گے ، غیر مقلد اور شیعہ ہمیں فتنہ کہیں گے ۔ مگر ہمیں مطمئن کوئی نہیں کر سکے گا کہ ہم مسلمان علماء کی پیروی کیونکر کریں جبکہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔ آپ ہمیں آنکھیں بند کر کے ایمان لانے اور ائمہ کی پیروی کرنے کی نصیحت کرتے ہیں ، ادھر قرآن ہمیں کہتا ہے کہ تم سوچتے کیوں نہیں ؟ تدبر کیوں نہیں کرتے ؟ اللہ کی نشانیاں تمہارے سامنے کھلی موجود ہیں ، تم ان پر فکر کیوں نہیں کرتے ؟ آپ ہمیں کہتے ہیں کہ بزرگوں کے پیچھے چپ چاپ چلتے رہو ، کفارِ مکہ بھی یہی کہتے تھے کہ جن بتوں کو ہمارے آباء صدیوں سے پوجتے آ رہے ہیں ، ہم انہیں کیسے توڑ دیں ؟
آپ کو جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو آپ مولوی کے پاس کیوں بھاگے جاتے ہیں ؟ آپ نے کوئی فتویٰ لینا ہوتا ہے تو قرآن کھول کر کیوں نہیں دیکھتے ؟ آپ اخبار میں لکھے ہوئے کالموں اور سیاسی لیڈروں کے بیانات کو رٹا لگا کر اپنے مخالفین کو کیوں سناتے ہیں ؟ آپ خود غور کیوں نہیں کرتے کہ اس معاملے کا بہترین حل کیا ہے ؟ اس میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ؟ آپ کے شہر کا میئر ووٹ مانگتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اس شہر کو پیرس بنا دوں گا ۔ ہم زور زور سے تالیاں پیٹ دیتے ہیں لیکن اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ پیرس بنانے کے لیے پیسہ کہاں سے لاؤ گے ؟ پیسہ مل گیا تو نظام کیسے ٹھیک کرو گے ؟
leave a comment