Moashrah معاشرہ

بلیک میلنگ سے بچیے

Posted in Crisis مشکلات by Rumi on January 15, 2009

وہ ایک شریف لڑکی تھی ؛ شریف ماں باپ کی شریف اولاد ۔ مذہب سے لگاؤ رکھنے والی ، معصومیت سے بھرپور ، دنیا کی تلخیوں سے نا آشنا ۔ دھوکہ دہی اور منافقت کی برائیوں سے دور ۔ پھر اسے وہ مل گیا ، دوستانہ رویہ ، ہنس مکھ اور محبت کرنے والا لڑکا ۔ اُن کی ملاقاتیں ہونے لگیں ۔ کبھی یونیورسٹی میں ، کبھی پارک میں ، کبھی سہیلی کے گھر ۔ ایک دِن وہ اسے اپنے دوست کے گھر لے گیا اور وہاں وہ سب ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ لڑکی وہ سب نہ کرنے دیتی لیکن اس نے اسے کہا کہ چند ہی دِن میں ہم نکاح کر لیں گے ۔ وہ اس کے جھانسے اور جذبات کی رَو میں بہہ گئی ۔

کچھ دِن بعد وہ اسے ملا اور اسے اپنے دوست کے گھر آنے کا کہا ۔ پچھلے واقعہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس نے جانے سے انکار کر دیا ۔ اس پر وہ تلخ ہو گیا اور اسے کہنے لگا کہ اُس روز میرے دوست نے تمہاری ویڈیو بنا لی تھی ، اگر تم نہ آئی تو یہ ویڈیو تمہارے پورے خاندان اور شہر میں تقسیم کر دوں گا ۔ لڑکی ڈر گئی اور اُس کے پاس چلی گئی ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ اس کی داشتہ بن کر رہ گئی ۔

یہ کہانی ہے ایک پاکستانی لڑکی کی ، اور اس جیسی کئی معصوم لڑکیوں کی جو درندوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ اکثر یہ کہانی محبت کے دعووں سے شروع ہوتی ہے اور بلیک میلنگ پر ختم ہوتی ہے ۔ بلیک میلنگ کسی بھی طرح کی ہو ، نہایت گھناؤنی شے ہے ۔ انسان کو کبھی بلیک میل نہیں ہونا چاہیے ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل ۔ لیکن مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد ہی انسان کندن بنتا ہے ۔ تبھی اسے زندگی کا اصل چہرہ نظر آتا ہے اور وہ لوگوں کو handle کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔

اس قصے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس لڑکی نے کبھی اس بلیک میلر سے وہ ویڈیو طلب نہیں کی ۔ وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ اس کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ وہ لڑکا جھوٹ بھی بول سکتا ہے ۔ وہ بس اپنے خوف کی وجہ سے اس کی ہمیشہ کے لیے غلام بن گئی ۔

اسے چاہیے تھا کہ اس سے وہ ویڈیو طلب کرتی ۔ اگر وہ نہ دے سکتا تو معلوم ہو جاتا کہ وہ جھوٹ بول کر اسے بلیک میل کر رہا ہے ۔ اگر وہ واقعی ویڈیو بنا چکا تھا تو اس لڑکی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی ماں یا بہن کو اعتماد میں لیتی ۔ غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے ، اس کے والدین کچھ غصہ کرتے لیکن وہ یقیناً اس کا کچھ حل سوچتے ، کہ والدین کا حوصلہ و بصیرت عموماً اولاد سے زیادہ ہی ہوتی ہے ۔ پریشانی میں انسان کو کسی قابلِ اعتماد شخص سے رائے لے لینی چاہیے ۔

اگر آپ بھی کسی قسم کی بلیک میلنگ کا شکار ہیں تو ہمیں لکھیے ، شاید ہم آپ کو کوئی مشورہ دے سکیں ۔ یہاں آپ کا نام شائع نہیں کیا جائے گا ۔ ہمارا ای میل ایڈریس ہے

moashrah@gmail.com

Advertisement

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.