اپنے بچوں کو تباہ مت کیجیے
انسان کے لیے سب سے بڑی عدالت وہ خود ہوتا ہے ، اُس کا ضمیر ہوتا ہے ، اُس کا نفس ۔ یہ ناممکن ہے کہ دماغی طور پر نارمل شخص اپنی عدالت میں پیش نہ ہوتا ہو ۔ کبھی کبھی انسان کا اپنا وجود اُس کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے ، کبھی انسان اپنی ہی نظروں میں گِر جاتا ہے ۔ ہر اِنسان جانتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ حقیقت پہ پردہ ڈال کر کسی اور سمت میں نکل جائے ۔
ہم جب بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوئے تو زندگی سے شناسائی ہونے لگی ۔ چند ہی برسوں میں ہمیں دنیا upside down دکھائی دینے لگی ۔ جیسی ہم بچپن سے ، بارہ چودہ سالوں سے دیکھتے اور محسوس کرتے آ رہے تھے ، اس سے بالکل مختلف ۔ لوگوں کے چہرے بدل گئے ، اُن کے رویے ، اُن کے انداز بدل گئے ، یا شاید وہ ویسے ہی تھے ، شاید ہم بدل گئے تھے ۔ تب ہمیں زندگی کا ، اِس دنیا کا اِدراک ہونے لگا ۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ جب ہمیں ایک زبردست جھٹکا لگا اور ہماری آنکھیں پوری طرح کھل گئیں ۔
ہم نے دیکھا کہ ہم جس معاشرے میں دو عشروں سے رہتے آرہے تھے ، وہ غلاظت میں لتھڑا ہوا تھا ۔ یہ غلاظت اخلاقی بھی تھی اور طبعی بھی ۔ بیشتر لوگ اندر سے بھی گندے اور باہر سے بھی گندے ۔ دِلوں میں تلخی اور گلیوں میں گندگی ۔ جابجا کوڑا کرکٹ بکھرا ہوا اور لوگ اس کے بیچ میں سے ، اس کے اوپر سے یوں گزر رہے ہیں جیسے نیچے گند نہیں بلکہ سُرخ قالین بچھا ہو ۔ گٹروں کا پانی گلیوں اور سڑکوں پہ یوں موجود ہے جیسے عمارات بنی ہی اس گند میں ہیں ، اٹلی کے شہر وینس کی طرح ۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، کوئی پارک ، باغ درست حالت میں نہیں ہے ۔ رشوت ، سفارش ، گالی گلوچ ، ہر طرح کی برائی ہم میں موجود ہے اور ہم اسی میں جیے جا رہے ہیں ۔
اِس صورتِ حال نے ہمیں یہ سوچنے پہ مجبور کیا کہ آخر لوگوں کو اس کا اِدراک کیوں نہیں ہے ؟ وہ کیوں اس گندگی کو ختم نہیں کرتے ۔ اس کا جواب ہمیں یہ ملا کہ لوگ خود ہی ٹھیک نہیں ہونا چاہتے ۔ اگر کوئی سفارش ختم کر دے گا تو وہ اپنے مفادات کہاں سے حاصل کرے گا ؟ اگر کوئی رشوت دینا بند کر دے گا تو وہ خود رشوت کیسے لے گا ؟ اگر کوئی اپنی گلی کو صاف رکھنے لگے گا تو اس پر وقت اور سرمایہ خرچ ہوگا ۔ ہر شخص اپنا بوجھ دوسرے پر منتقل کرنا چاہتا ہے ۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی جنبشِ انگشت سے سب ٹھیک ہو جائے ، پر اسے کچھ نہ کرنا پڑے ۔
ہم یہ سوچ سوچ کر حیران و پریشان ہوتے ہیں کہ جن والدین کو اپنی اولاد کے کھانے پینے ، خوش رہنے ، تعلیم حاصل کرنے ، بڑے عہدوں پر فائز ہونے کی بہت زیادہ فکر ہے ، انہیں یہ فکر کیوں نہیں ہے کہ اُن کی اولاد ایک اچھے ماحول میں رہے ؟ جو نوجوان آج غلط حرکتوں میں مشغول ہے ، اُسے یہ فکر کیوں نہیں ہے کہ کل کو اس کی اولاد کے ساتھ کوئی اور یہ سب کرے گا ؟ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پیار کرنے والا شخص یہ کوشش کیوں نہیں کرتا کہ جب اس کے بچے بڑے ہوں تو وہ ایک صاف ستھرے شہر میں رہیں ۔ ان کی گلیاں صاف ہوں ، سڑکیں ہموار اور کشادہ ہوں ، ان کی تفریح کے لیے سرسبز پارک ہوں ، انہیں اچھی آب و ہوا ملے ، جب وہ کسی دفتر میں کسی کام سے جائیں تو ان کے ساتھ ناانصافی نہ ہو ۔
جو قوم اپنے مستقبل کی فکر نہیں کرتی ، وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہے ۔ بھارت نے آج سے تیس سال قبل یہ جان لیا تھا کہ ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے ۔ بھارتیوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی ، اپنا نظامِ تعلیم بہتر کیا ، بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے روابط قائم کیے ۔ آج دیکھ لیجیے کہ بھارت دنیا کا تیز رفتار ترین ترقی کرنے والا ملک بن گیا ہے ، چاند پر پہنچ چکا ہے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں کتنا آگے چلا گیا ہے ۔ آؤٹ سورسنگ کا گڑھ بن چکا ہے ۔ کون سا بین الاقوامی ادارہ ہے جو بھارت میں کام نہیں کر رہا ؟ یہ سب ان کی دوراندیشی کے سبب ممکن ہوا ہے ، تعلیم نے انہیں یہ سب دیا ہے ۔ جبکہ ہمیں دیکھیے ، ہمیں آج دنیا میں سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ، جہاں جاتے ہیں دہشت گرد قرار پا کر قید کر دیے جاتے ہیں یا ڈی پورٹ ۔
ہم پاکستانی مرد اپنی “مردانگی” کے لیے بہت حساس ہیں ۔ اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیے بڑے سے بڑا چیلنج قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ لیکن جب اپنے ملک کو ٹھیک کرنے کی بات آتی ہے تو ایک نکڑ میں سمٹ جاتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ یہ نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا ۔ جناب ملک افراد سے بنتا ہے ، اگر افراد خراب ہوں گے تو ملک بھی خراب ہوگا ، اگر وہ ٹھیک ہوں گے تو ملک بھی ٹھیک ہوگا ۔ ہم ہی ہیں جو اِس ملک کو ، اس نظام کو ٹھیک کر سکتے ہیں ۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں ۔ اگر آپ اپنے لیے کچھ نہیں کرنا چاہتے تو اپنے بچوں کا ہی خیال کر لیجیے ۔!
leave a comment