Moashrah معاشرہ

ستاروں سے آگے جہاں۔۔

Posted in General متنوع by Rumi on July 13, 2010

آپ نے کبھی سبزی منڈی میں بیٹھے اس شخص کو دیکھا ہے جو سبزیوں اور پھلوں کی چھانٹی کر رہا ہوتا ہے؟ وہ شخص سائنس کا علم نہیں رکھتا، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ ان دو مختلف معیار کے پھلوں میں کتنے حرارے ہیں، کون سے ایسے مادے ہیں جو اسے صحت مند یا نقصان دہ بنا سکتے ہیں۔ یہ پھل کس شہر کے کس باغ سے آیا ہے؟ وہ شخص صرف اتنا جانتا ہے کہ یہ پھل اچھا ہے اور یہ خراب، کون سا پھل زیادہ معیاری ہے اور کون سا کم نقصان دہ۔

ہم بھی کوئی عالم فاضل نہیں ہیں، قرآن کی ایک آیت سمجھنے کے لیے پورا زور لگانے کے بعد بھی اس کے تمام مطالب نہیں جان سکتے۔ ہم نے حدیث و فقہ کی ساری کتابیں نہیں پڑھیں۔ ہمیں بعض پیشہ وروں کی طرح آیات و حدیث کے حوالے فرفر نہیں آتے۔ ہم ایک اوسط عقل کے مالک انسان ہیں، صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ کام غلط ہے اور یہ درست۔ یہ قدم اسلام کے مطابق اٹھایا گیا ہے اور یہ اپنے موضوع طریق پر اٹھایا گیا ہے۔

ایک تبصرہ نگار نے ہم پر الزام لگایا کہ ہم نیا فرقہ گھڑنے کے چکر میں ہیں، ہم اسلام کے خلاف نئی سازش تیار کر رہے ہیں، ہم سے ہمارے دلائل سے متعلق قرآن و حدیث کے حوالے مانگے۔ ہم نے شیطان کی آنت نہیں دیکھی ہوئی ورنہ اس کی طوالت کے تناسب سے اس تبصرے کی لمبائی چوڑائی بیان کرتے۔ اس تبصرے کا جواب دینے میں کئی ماہ لگ گئے کیونکہ ہم ان “عالمِ عالَم” کی طرح دین و دنیا پر “مکمل عبور” نہیں رکھتے اور نہ ہی ہم بحث کے شوقین ہیں۔ اگر آپ کو ہماری بات میں معقولیت نظر آئے تو غور کیجیے ورنہ اللہ سے اپنی اور ہماری ہدایت کی دعا کیجیے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کا اور ہمارا بھلا ہوگا۔

اللہ نے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رحمتہ اللعالمین کیوں کہا، رحمتہ اللمسلمین یا مومنین کیوں نہیں کہا؟ کیا اللہ نے قرآن میں صرف مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے یا سب انسانوں کو؟ کیا اللہ کی رحمت و کرم صرف مسلمانوں تک محدود ہے؟ اگر نہیں۔۔۔ تو یہ بتائیے کہ جب کوئی شخص معتدل ہو کر تمام انسانوں کے حق میں آواز اٹھاتا ہے تو آپ برافروختہ کیوں ہو جاتے ہیں؟

کیا حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ میری بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کٹوا دیتا؟ کیا اللہ نے یہ نہیں کہا کہ پارسائی کا معیار محض تقوٰی ہے؟ کیا اللہ نے قرآن میں کہیں یہ کہا کہ فلاں فلاں رشتے یا عہدے کی بنیاد پر آپ کو جنت و بخشش کا پروانہ اور فضیلت دی جاتی ہے؟ اگر آپ مانتے ہیں کہ اسلام میں بڑائی کا معیار صرف پرہیزگاری ہے تو آپ محض کسی کی عبادتوں، عہدوں، رشتوں اور “اسلام کے لیے خدمات” کی بنیاد پر اسے ہر طرح کے محاسبے سے ماوراء کیوں سمجھتے ہیں اور اس کے لیے فساد کی پرورش پر تیار کیوں ہو جاتے ہیں؟

جس شخص کو اپنے نظریات پر اعتماد ہوتا ہے وہ مخالف کی بات پر اچھل نہیں پڑتا۔ جو شخص جانتا ہے کہ اس کا عقیدہ کسی اعتراض سے متاثر نہیں ہو سکتا، وہ مخالفت کے جواب میں فتنہ و فساد پر نہیں تُل جاتا۔ جو شخص جانتا ہے کہ اس کے ایمان کی بنیادیں مضبوط ہیں، وہ کسی کی دعوتِ فکر پر اسے سازشی کے خطابات سے نہیں نوازتا۔

اسلام کوئی برتن میں رکھی ہوئی شے نہیں ہے کہ الٹنے سے گر پڑے گی۔ اسلام کوئی دیوار نہیں ہے کہ مخالفین کے دھکوں سے گر جائے گی۔ اسلام کوئی مادی شے نہیں ہے کہ جسے کوئی نقصان پہنچا دے گا۔ اسلام ایک ایسا وسیع دریا ہے کہ جس سے کئی لوگوں نے اپنے مفادات کے لیے نہریں اور نالے نکالے اور انہیں اصلی منبعِ اسلام کا نام دیا۔ اسلام میٹھے اور صاف پانی کا وہ دریا ہے کہ رحمت کے سمندر میں اترتا چلا جاتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ کون اس سے کیا فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ اسلام اللہ کا بنایا ہوا ضابطہِ حیات ہے کہ جسے کوئی خراب نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص نیا فرقہ بنا کر اسے اسلام کا نام دے دیتا ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین اسلام پر “اغیار” نے حملے شروع کر دیے ہیں اور اسے کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجیے اور اپنے کنویں سے باہر نکلیے۔

آپ سمجھتے ہیں کہ آپ دائرہ اسلام میں ہیں؟ بہت خوب۔۔ ہم آپ سے ایک چھوٹی سی گزارش کرتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے، صرف چند منٹوں کی “بریک” لیجیے اور ہوا خوری کے لیے نکلیے۔ آپ کے “دائرہ اسلام” کے ساتھ ہی کچھ اور دائرے بھی ہیں جن میں بہت سے انسان اپنے اپنے عقائد کا جھنڈا بلند کیے تن کے یوں کھڑے ہیں کہ گویا سارے جہان کا علم انہیں میں سمویا ہوا ہے۔ آپ اپنے دائرے سے نکل کر ان سب دائروں سے ذرا فاصلے پر کھڑے ہو جائیے اور انہیں دیکھیے۔

غور کیجیے کہ ان میں سے کون سا دائرہ کتنا کشادہ ہے؟ کون سا دائرہ اپنے مکینوں کو زیادہ سکون پہنچا رہا ہے؟ کس دائرے کے معتقدین میں ایسی باتیں ہیں جو عدل و انصاف اور انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں؟ وہ کون سے نظریات ہیں جو “رحمتہ اللعالمین” کے جاں فِزا الفاظ کے قریب تر ہیں؟ معتدل ہو کر نیوٹرل گراوْنڈ میں کھڑے ہو کر یہ سوچیے کہ کیا فلاں فلاں کے فتاوٰی آپ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسوہِ حسنہ کے مطابق ہیں یا نہیں؟

چاہیے تو 15 منٹ کی بریک لیجیے اور چاہیے تو کچھ دنوں کی۔۔ ہم آپ سے ملیں گے اس بریک کے بعد انشاء اللہ

Advertisement

One Response

Subscribe to comments with RSS.

  1. ڈفر - DuFFeR said, on July 15, 2010 at 5:23 pm

    کونسا تبصرہ؟


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.